بنگلورو،25؍فروری(ایس او نیوز) کانگریس اعلیٰ کمان کو رقم ادا کرنے کے سلسلے میں الزامات کے بعد محکمۂ انکم ٹیکس کی طرف سے ضبط کی گئی ڈائری کے مشمولات منظر عام پر آجانے سے کل شہر میں منعقد ہونے والی کانگریس رابطہ کمیٹی میٹنگ انتہائی اہمیت کی حامل ہوچکی ہے۔ ڈائری کے مشمولات منظر عام پر آجانے کے سبب پارٹی اور حکومت کو جس طرح کی ندامت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،اس سے نمٹنے کیلئے کل حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ میٹنگ میں شرکت کریں گے، جس میں بی جے پی قائدین کا جواب دینے پر بات چیت ہوگی اور یہ طے کیا جائے گا کہ آنے والے انتخابات کیلئے تیاریوں کے درمیان ان الزامات کا سامنا کس طریقے سے کیاجائے۔ بتایاجاتاہے کہ وزیراعلیٰ سدرامیا کو اعلیٰ کمان سے ہدایت دی گئی ہے کہ اس ڈائری کے متعلق کسی بھی طرح کا ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کریں تو دوسری طرف اپوزیشن پارٹی بالخصوص بی جے پی کی طرف سے کئے جانے والے پروپگنڈہ کو پارٹی کی طرف سے ہی ناکام بنانے کی حکمت عملی وضع کی جائے، ساتھ ہی یہ بھی طے کیا گیاہے کہ کل کی میٹنگ میں اس امر پر بات چیت ہوگی کہ ریاستی کابینہ کے کم از کم 15تا20 وزراء کو پارٹی کے کاموں پر مامور کیا جائے اورانہیں وزارت سے بے دخل کرکے ان کی جگہ پر نئے چہروں کو وزارت میں آنے کا موقع دیا جائے۔اس کے علاوہ 20 ضلع صدور کی تبدیلی پر بھی کل کی میٹنگ میں فیصلہ لیا جائے گا۔ آنے والے اسمبلی انتخابات میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی پر بھی بات چیت ہوگی اور طے کیا جائے گا کہ کم از کم 25خواتین کو انتخابی میدان میں اتارا جائے۔ بتایاجاتاہے کہ وزیر اعلیٰ سدرامیا اور کانگریس پارٹی نے ریاست کے102 اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی صورتحال کے متعلق داخلی سروے کروایا ہے۔ اس سروے کی بنیاد پر آنے والے انتخابات میں جیت کے اہل امیدواروں کی فہرست ابھی سے مرتب کرنے پر اتفاق کیا جائے گا اور ساتھ ہی گزشتہ چار سال کے دوران جن اراکین اسمبلی کی طرف سے پارٹی مخالف سرگرمیاں کی گئیں ان کی نشاندہی کرکے انہیں ٹکٹ نہ دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔کل ڈگ وجئے سنگھ کی صدارت میں ہونے والی رابطہ کمیٹی میٹنگ میں کمیٹی کے سبھی بیس اراکین شریک رہیں گے۔میٹنگ میں سینئر کانگریس لیڈروں کی موجودہ حکومت سے ناراضگی ، سابق وزیراعلیٰ ایس ایم کرشنا کی طرف سے کانگریس کو خیر باد کہنے کا فیصلہ ،پارٹی کے سینئر رہنماؤں سی کے جعفر شریف، جناردھن پجاری اور ایچ وشواناتھ کی بغاوت اور دیگر امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ریاست میں سرکاری امور پر وزیراعلیٰ سدرامیا اور ان کے حامیوں کے مکمل غلبے اور بنیادی کانگریسیوں کو پارٹی کی حد تک رکھ دینے کے الزامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ریاستی کابینہ سے ایک ساتھ بیس وزراء کی برطرفی کی صورت میں بغاوت کے امکانات کا بھی جائزہ میٹنگ میں لیا جائے گا۔